بنگلورو 26؍دسمبر (ایس او نیوز) اپنی اشتعال انگیزی اور متنازعہ بیانات کے لئے معروف مرکزی وزیر مملکت اننت کمار ہیگڈے نے دستور ہند بدلنے اور سیکیولر ازم پر یقین رکھنے والوں کو اپنے ماں باپ کا پتہ نہ ہونے کی بات جو کہی ہے اس کے خلاف ریاست بھر میں برہمی دکھائی دی ۔ اور کئی مقامات پر ان کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا۔
اننت کمار ہیگڈے کے خلاف وزیر اعلیٰ نے جہاں اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک منو وادی اوربد تہذیب شخص قراردیا ہے ، وہیں پر سیاسی قائدین، ترقی پسند دانشوروں اورکانگریس پارٹی کے علاوہ مختلف اداروں،سماجی تنظیموں نے ان کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے اننت کمار ہیگڈے سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔اسی دوران کوپّل کے ایم ایل اے راگھویندرا ہیٹنال نے اننت کمار ہیگڈے کے بیان پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وزیر موصوف ملک کا دستور بدلنے والا اپنا بیان واپس نہیں لیتے تو پھرملک میں خون خرابہ ہوجائے گا۔ بی جے پی کی ایک اوررکن پارلیمان شوبھا کرندلاجے سے جب چکمگلورو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اننت کمار کے اس بیان پرتبصرے کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے پہلے تو تبصرے سے انکار کردیا۔پھر اپنا ردعمل یوں بیان کیا کہ اننت کمار نے دستور بدلنے کی جو بات کہی ہے ، اس پر بی جے پی پارٹی میں یا مرکزی حکومت کی سطح پر کبھی کوئی بحث نہیں ہوئی ہے۔ وہ ان کا اپنا ذاتی بیان ہے۔ اس پر میں کوئی تبصرہ نہیں کرسکتی۔ جب اخبار نویسوں نے بار بار ان سے سوال کیا تو وہ پریس کانفرنس کو ہی برخاست کرکے باہر چلی گئیں۔ جبکہ سابق رکن پارلیمان آئینور منجوناتھ نے بھی اننت کمار کے بیان کو ان کے ذاتی خیالات سے تعبیر کیا ہے۔
میسور میں سابق رکن پارلیمان ایچ وشواناتھ نے کہا کہ اقتدار پر قابض رہنے کے لئے بی جے پی نے پاگلوں کو وزارت دے رکھی ہے۔ اور وہ لوگ پاگل پن کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ انہوں نے سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اننت کمار کو دوسروں کے ماں باپ کے خون کا پتہ پوچھنے کے بجائے خود اپنے ماں باپ کے خون کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔ٹیکسٹائلس اور مزراعی وزیر رودرپّا لمانی نے ہاویری میں اننت کمار کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دماغ خراب ہوگیا ہے ۔انہیں پاگلوں کے اسپتال میں داخل کیا جانا چاہیے۔ اننت کماراخلاق وکردار کے معاملے میں ایک کتے سے بھی گئی گزری شخصیت ہے۔
کرناٹک کانگریس کے صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہاکہ اننت کمار ہیگڈے نے دستور ہند بدلنے کی بات کہہ کر ڈاکٹر بابا صاحب امیبڈ کر کی توہین کی ہے۔ انہوں نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر دستور کو ہاتھ لگانے کی کوشش کی جائے گی تو پھر پورے ملک میں ایک بڑی احتجاجی تحریک شروع ہوجائے گی۔ایم ایل سی مسٹر وی ایس اوگرپّا نے مطالبہ کیا ہے کہ 2019کے لوک سبھا انتخابات بی جے پی کودستور بدلنے والے اسی موضوع پر لڑنا ہوگا ورنہ اننت کمار ہیگڈے کے اس بیان کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے قومی صدر کو عوام سے معافی مانگنی ہوگی۔
کے پی سی سی کے کارگزار صدر دنیش گنڈو راؤ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اننت کمار نے اپنے بیان سے ہندو دھرم کی توہین کی ہے۔ وہ ہندو قوم کے ایک نالائق فرد ہیں۔انہیں مرکزی وزارت بنانا ہی ایک طرح کا ظلم ہے۔ فرقہ وارانہ فساد برپا کرکے سیاسی مفاد حاصل کرنا ہی ان کا ایجنڈہ ہے۔